وی پی ان">
آن را مفروض است که کنفرانس #BRICS وسعت #AfghanPolicy توسط #USA #President #Trump #Hijacked توسط #India است. این #war #economics اقتصاد برنده خواهد #master اقتصاد است. #Pakistan نیاز به مذاکره بهترین نتیجه را از CPEC #CPEC خط #life رویا #OBOR #China است. نیاز به دوباره فکر می کنم بیش از #foreign #policy به سمت #Saudia #Iran #Russia #Israel #MiddleEast #India #Afghanistan و از رویا در چین #America برکس اعلامیہ اور پاک بھارت سفارتکاری جنگ تحریر: سید علی عمران دنیا کی 5 ابھرتی ہوئی معیشتوں کی تنظیم برکس نے پہلی مرتبہ اپنے اعلامیے میں پاکستان میں پائی جانے والی شدت پسند تنظیموں لشکرِ طیبہ اور جیشِ محمد کا ذکر کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ دونوں تنظیمیں خطے میں فساد کی ذمہ دار ہیں۔ چین میں ہونے والی تنظیم کی کانفرنس کے مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ دہشتگردی کے واقعات میں ملوث، ان کا انتظام کرنے محلّ حمایت کرنے والوں کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جانا چاہیے۔ چین، روس، برازیل، جنوبی افریقا اور بھارت کے سربراہان نے مشترکہ اعلامیے میں ایسی تنظیموں کی سخت مذمت کی ہے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کو جاری رکھنے کا اعادہ کیا ہے۔ اس سے پہلے امریکہ کے صدر ٹرمپ نے افغان پالیسی کا اعلان کیا تھا جس میں پاکستان کے لیے دھمکی آمیزانہ رویہ اختیار کیا گیا تھا کہ ہماری سرزمین دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہ بنی ہوئی ہے جبکہ افضانستان میں بھارت کے کردار کو سراہا گیا تھا۔ امریکہ کا بھارت کو اس خطے میں سپورٹ کرنا چین کے ون بیلٹ ون روڈ منصوبے کے خلاف ضروری سمجھا جاتا ہے کیونکہ اس منصوبے سے ایک نئی سپر پاور مشرق سے ابھرتی نظر آتی ہے۔ مگر بھارت کو ایک اور سفارتی کامیابی برکس اجلاس میں ملی ہے جب اس نے پاکستان کے سب سے گہرے دوست چین کی صدارت میں برکس اعلامیہ میں پاکستانی تنظیموں کو دہشت گردی کی جڑ کہا گیا جبکہ پاکستان میں ہونے والی بھارتی دہشت گردی کا کوئی ذکر نہیں ہوا۔
بھارتی ریاست گووا میں پچھلے سال برکس ممالک کا اجلاس ہوا تھا۔ اجلاس کے موقع پر وزیراعظم نریندر مودی نے پورا زور لگایا تھا کہ ایسا اعلامیہ آئے کہ جس میں یہ کہا جائے کہ پاکستان سرحد پار دہشت گردی برآمد کر رہا ہے۔ مگر کشمیر کے اڑی حملہ میں بھارتی فوجیوں کی ہلاکتوں کے باوجود اس کوشش میں بھارت کامیاب نہ ہو سکا اور اجلاس میں پاکستان کے بارے میں چین کی حمایت اور روس کی خاموشی نے مودی سرکار کے خواب چکنا چور کردیے۔ واضح رہے کے بھارت نے اس حملے کا الزام پاکستان کی ایک تنظیم لشکر طیبہ اور جیش محمد پر لگایا تھا۔ چین بسا اوقات مولانا اظہر کو عالمی دہشت گرد ثابت کرنے کی بھارتی کوششوں کو بھی ویٹو کرتا آیا ہے۔ برکس تنظیم دوہزار نو میں قائم ہوئی تھی اور اس کا مقصد عالمی اقتصاد میں توازن قائم کرنا اور مغربی ملکوں کے اقتصادی اثر و رسوخ کا مقابلہ کرنا ہے۔ دنیا کی 44 فیصد آبادی برکس ممالک میں بستی ہے۔ دنیا کی 30 فیصد جی ڈی برخی انھیں ممالک سے آتی ہے اورعالمی سطح پر تجارت میں ان کا تقریباً 18 فیصد حصہ ہے۔ برکس کے قیام کو آٹھ برس بیت چکے مگر جن مقاصد کے حصول کے لیے اسے تشکیل کیا گیا تھا وہ اب بھی غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں۔
برکس کے نویں اجلاس کے اعلامیے میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ افغانستان میں فوری طور پر جنگ بندی ہونی چاہیے، برکس ممالک نے طالبان، دولتِ اسلامیہ، القاعدہ اور اس کے ساتھی گروہوں بشمول مشرقی ترکستان اسلامک موومنٹ، اسلامک موومنٹ آف ازبکستان، حقانی نیٹ ورک، لشکرِ طیبہ، جیشِ محم د، ٹی ٹی برخی اور حزب التحریر کی وجہ سے خطے میں ہونے والے فساد اور بدامنی کی مذمت کی۔ تنظیم نے اس بات کو دہرایا ہے کہ دہشتگردی کا خاتمہ کرنا اولین طور پر ریاست کی ذمہ داری ہے اور بین الاقوامی معاونت کو خود مختاری اور عدم مداخلت کی بنیادوں پر فروغ دینا چاہیے۔ یاد رہے کہ اس اجلاس سے پہلے چینی وزیرِ خارجہ نے کہا تھا کہ ہمیں پتا ہے کہ بھارت کے پاکستان کی جانب سے انسدادِ دہشتگردی کے حوالے سے خدشات ہیں لیکن ہمارے خیال میں برکس اس پر بحث کرنے کا درست فورم نہیں ہے۔ دوسری طرف بھارت نے ایران کے ساتھ تجارتی تعلقات کے فروغ کے لیے بھی منصوبہ بندی کر لی ہے۔ جلد ہی ایرانی تاجروں کو پانچ دن کی بجائے تین روز کے اندر ویزا جاری ہوا کرے گا۔ اس کے علاوہ بھارت اپنا تجارتی و اقتصادی دفتر بھی ایران میں کھولنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
راولپنڈی میں جنرل ہیڈ کوارٹرز (جی ایچ کیو) میں ‘یوم دفاع’ کی مناسبت سے منعقدہ تقریب میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے چینی سفیر سن وی ڈونگ نے کہا کہ پاکستان کے حوالے سے چینی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی جبکہ برکس اعلامیے میں پاکستان سے کوئی نیا مطالبہ نہیں کیا گیا۔ جبکہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی قربانیاں قابل تحسین ہیں اور چین دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے موقف کی بھرپور حمایت کرتا ہے۔ چینی سفیر کا کہنا تھا کہ ‘ برکس اعلامیے میں ان تنظیموں کی بات کی گئی جو پہلے ہی کالعدم می دی جاچکی ہیں۔
دوسری طرف خود چینی ماہرین نے کہا ہے کہ برکس اعلامیہ میں چین نے پاکستان اور افغانستان کے دہشت گرد گروپوں کا نام شامل کرکے غلطی کی، اس اقدام سے خطے میں دونوں ملکوں کیساتھ چین کے روابط پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ چین کے انسٹیٹیوٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنز کے ڈائریکٹر ہوشی شینگ نے کہا کہ چین نے بہت بڑی غلطی کی جس کا چینی حکومت کو آئندہ برسوں میں احساس ہوجائے گا، 1960کے عشرے کے بعد پاک چین تعلقات کو ایک بڑے چیلنج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ہو شی کے مطابق افغان طالبان میں حقانی نیٹ ورک کا کردار قائدانہ ہے اور افغانستان کا 40فیصد علاقہ ان کے زیر کنٹرول ہے۔ ان کے مطابق طالبان کو دہشت گرد کے بجائے ایک سیاسی گروپ کے طور پر لیا جائے، اعلامیہ میں ان کی اس طرح شمولیت افغانستان کی صورتحال مزید خراب کر سکتی ہے۔ افغانستان میں چین کا بطور سیاسی مصالحت کا کردار ختم ہو کر رہ جائے گا۔.
لینک دانلود

